Hazarat bilal ka waqea

حضرت بلال حبشی کا غلامی سے بادشاہ بننے تک کا واقغہ 


میں بلال ہوں؛؛؛؛؛؛::::

۔ حبشہ میر اوطن تھا میرے ابا کا نام رباح تھا۔ وہ بھی غلام تھے اور میری امی کا

نام حمامہ تھی اور وہ بھی غلام تھی۔

 گویا میں خاندانی غلام ہوں۔ جب مجھے 

مکہ کی منڈی میں میرے

آقا امیہ بن خلف نے خریدا تو جانتے ہو

 ان دنوں غلامی کیا چیز ہوا کرتی تھی ؟

 بھیڑ ، بکری، گائے یااونٹ کی کچھ قدر تھی لیکن غلام

 اس سے بہت کمتر تھا۔ غلام جب بکتا تھا تو صرف موت اسے آزادکراتی تھی۔ اس کی زندگی اس کے مالک کا حکم بجالانا ہوتا تھا۔ غلام حکم نہ ماننے کا تو کبھی خیال بھی

نہیں کر سکتا تھا۔ محنت کے بوجھ تلے آ کر غلام مر گیا تو مالک کی بلا سے ۔ اُسے اگر غم ہوتا تو صرف

یہ کہ اُس کی رقم کا نقصان ہوگیا ور نہ غلام کی زندگی ختم ہو جانے کا کوئی دکھ نہیں ہوتا تھا۔ میں دو

مرتبہ غلام بنا۔ پہلی بار امیہ بن خلف مکہ کے ایک سردار نے مجھے خریدا اور دوسری بار ابو بکر نے 

 خرید کر محمد(ﷺ) کا غلام بنا دیا ۔ پہلے مالک کی غلامی میں ذلیل وخوار تھا اور مجھے 

بیدردی سے مارا جاتا تھا کہ ایک مرتبہ مجھے اُس مار کی وجہ سے مردہ سمجھ کر ہی چھوڑ کر چلے گئے۔

دوسری غلامی میں میں اتنا معزز ہوا کہ آدھی دنیا کے بادشاہ حضرت عمر مجھے سیدنا بلال" کہہ کر

پکارا کرتے تھے ۔ یہ غلامی میرے لئے بادشاہی سے کم نہ تھی۔ مجھے سردار دوجہاں کی وہ خدمت

نصیب ہوئی جسے بڑے بڑے سرداروں نے بھی رَشک کی نگاہوں سے دیکھا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Hazarat Umer Farooq r.a

Last khutbah of Muhammad SWW

Hazarat Abu bakar (r.a)